نئی دہلی،08؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ نے آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لئے پیر کو جاری بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے منشور کو جملہ قرار دیا ہے۔کمل ناتھ نے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ 48 صفحے کے 75 قراردادوں والے اس قرارداد خط میں ایک بار پھر بی جے پی کے 2014 کے منشور کے پرانے وعدوں کو شامل کرکے جھوٹے خواب دکھانے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کمل ناتھ نے آگے کہاکہ چاہے رام مندر کی بات ہو، دفعہ 370 ہٹانے کی بات ہو، یہ سب چیزیں بی جے پی نے 2014 کے منشور میں بھی کیا تھا۔لیکن پورے پانچ سال تک ان وعدوں کو بی جے پی بھولی رہی، اب 2019 میں ایک بار پھر ان وعدوں کو دوگنا کرکے وہ عوام کو جھوٹے خواب دکھانے کا کام کر رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عوام اب ان کی حقیقت جان چکی ہے۔ کمل ناتھ نے سال 2014 کے انتخابات سے پہلے بی جے پی کی طرف سے کئے گئے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سال 2014 میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لئے ان کی پیداوار پر لاگت سے 50 فیصد زیادہ دام دینے کا وعدہ کرنے والے آج سال 2019 میں پانچ سال بعد بھی کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے 2022 تک کا وقت مانگ رہے ہیں۔ نوٹ بندی سے دہشت گردی۔نکسلواد ختم کرنے کا دعوی کرنے والے 2019 کے منشور میں بھی انہی باتوں کو دہرا رہے ہیں۔کمل ناتھ نے کہا ہے کہ آج جاری بی جے پی کے منشورسے امید تھی کہ کسانوں کو قرض کے دلدل سے نکالنے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ یا ان کو قرض سے نجات دلانے پر بات ہوگی، لیکن کسانوں کو قرض سے نجات دلانے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ اس منشور میں دکھائی نہیں دیا۔ جبکہ کسانوں کے لئے کانگریس نے مختلف بجٹ لانے اور انصاف کی منصوبہ بندی کا وعدہ کیا ہے۔کانگریس کے منشور کا ذکر کرتے ہوئے کمل ناتھ نے کہاکہ کانگریس نے خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے ان کو33 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کہی ہے۔جبکہ بی جے پی کے منشور میں خواتین کو لے کر کوئی مستحکم بات نہیں ہے۔جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سے تباہ ہو چکے ٹریڈ کاروبار کو بحران سے نکالنے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ اس قرارداد خط میں نہیں ہے۔یہ مکمل طریقے سے جملہ خط ہے۔اس کے ذریعے عوام کو جھوٹے خواب دکھا کرمحض گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔